پٹنہ، 27؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) سی بی آئی نے آر جے ڈی سپریمو اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے- پیر کو میڈیا نے پٹنہ ہوائی اڈے پر ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو سے اس بارے میں سوال کیا- اس پر تیجسوی یادو نے کہا کہ جانچ ہو چکی ہے- اس معاملے میں کچھ نہیں ملا- کیس دوبارہ کھولا جا رہا ہے- لالو یادو اور میری زندگی ایک کھلی کتاب ہے- میں پہلے ہی سی بی آئی سے کہہ چکا ہوں کہ اگر میرے گھر کو دفتر بناناچاہتے ہیں، تو شوق سے بنائیں -تیجسوی یادو نے کہا کہ اگر سی بی آئی کو دوبارہ جانچ کرنی ہے تو وہ جانچ کر سکتی ہے- اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے- سی بی آئی اس معاملے میں بھی پہلے ہی جانچ کر چکی ہے- سی بی آئی کو کچھ نہیں ملا- ایک ہی معاملہ میں ایک بار چھان بین کریں یا دس بار تفتیش کریں، یہ ان کی مرضی ہے- ہم نے معاملے میں سی بی آئی اور ای ڈی کو ریکارڈ پر بیانات دیئے ہیں -
ہم نے کئی بار ای ڈی اور سی بی آئی کے سوالات کا جواب دیا ہے-واضح ہو کہ یہ الزام ہے کہ لالو یادو نے یو پی اے حکومت میں ریلوے کے وزیر ہونے پر بے ضابطگیاں کی تھیں - سی بی آئی نے سال2018 میں اس معاملے کی جانچ شروع کی تھی اور مئی2021 میں تحقیقات کو بند کر دیا تھا- کہا جاتا ہے کہ سی بی آئی کو لالو یادو کے خلاف الزامات پر ٹھوس ثبوت نہیں ملے- اس معاملہ میں لالو پرساد یادو کے علاوہ ان کے بیٹے اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو، ان کی بیٹی چندا یادو اور راگنی یادو کو بھی ملزم بنایا گیا ہے-